ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوپی :پہلا مرحلہ مجموعی طورپر پُرامن ،60.51 فیصد پولنگ

یوپی :پہلا مرحلہ مجموعی طورپر پُرامن ،60.51 فیصد پولنگ

Fri, 11 Feb 2022 14:39:23    S.O. News Service

لکھنؤ،11؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش میں قانون ساز اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے جمعرات کو ہونے والی پولنگ مجموعی طورپر پُرامن رہی  اور شام 66 بجےتک60.51  فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ جمعرات کی صبح7 بجے پُرامن طریقے سے11؍ اضلاع کی58 سیٹوں پر پہلے سے طے شدہ وقت کے مطابق پولنگ شروع ہوگئی۔الیکشن کمیشن نے آزادانہ، منصفانہ اور پُرامن پولنگ کے انعقاد کے لیے بھرپور تیاریوں کے درمیان وسیع حفاظتی انتظامات کے سائے میں پولنگ شروع ہونے کی اطلاع دی۔ کمیشن نے شاملی، مظفر نگر، میرٹھ، باغپت، غازی آباد، ہاپوڑ، گوتم بدھ نگر، بلند شہر، علی گڑھ، متھرا اور ہاتھرس  اضلاع  کی58 نشستوں کے 10833 پولنگ  مراکز  کے25880 پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے جلد آغاز کے بارے میں  اطلاع دی۔اس مرحلے میں11 اضلاع کے28.2 کروڑ ووٹروں نے  شام۶؍بجے تک ہونے والی پولنگ میں 73خواتین سمیت623 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ای وی ایم میں بند کردیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق پولنگ شروع ہونے کے آدھے گھنٹے بعد تک صرف چند ووٹرز پولنگ ا سٹیشن پر پہنچے۔ سرد صبح پولنگ شروع ہونے پر ووٹرز سورج  کے اوپر آنے  کا انتظار کر رہے  تھے۔ کووڈ پروٹوکول کے تحت ووٹروں کو صرف ماسک پہن کر پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت تھی۔اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشنوں پر سینی ٹائزر اور تھرمل اسکیننگ سمیت دیگر انتظامات بھی کیےتھے۔

خیرگڑھ، فتح آباد، آگرہ جنوب ، بہہ، چھتر، متھرا، سردھنہ، میرٹھ شہر، چھپرولی، بروت، باغپت اور کیرانہ  کے5535 پولنگ مقامات کو `انتہائی حساس زمرے میں رکھا گیا جنہیں سیکوریٹی کے نقطہ نظر سے حساس اسمبلی حلقوں کے طور پر شناخت کیا گیا  تھا۔  وہاں سیکوریٹی کے اضافی انتظامات  کئے گئے  تھے۔  سیکوریٹی انتظامات کے تحت پولنگ اسٹیشنوں پر سینٹرل سیکوریٹی فورس کے جوان تعینات رہے۔ پولنگ شروع ہونے سے قبل مرکزی سیکوریٹی فورسیز کی جانب سے حساس علاقوں میں فلیگ مارچ کیا گیا تاکہ ووٹرز بغیر کسی خوف کے اپنا ووٹ ڈال سکیں۔

اس کے علاوہ261 خواتین پولیس اہلکار اور۵۹؍ خواتین پولیس انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز کو138پنک  بوتھوں میں تعینات کیا گیا ہے جو خواتین انتخابی عملہ کی سیٹوں کے پہلے مرحلے میں چلائے جاتے ہیں۔ پُرامن پولنگ کو یقینی بنانے کیلئے سینٹرل سیکوریٹی فورس کی800کمپنیاں تعینات کی گئیںجن میں  سے 724کمپنیاں پولنگ  مراکز کی حفاظت کیلئے تعینات کی گئی تھیں۔یوگی حکومت کے ۹؍ وزیر بھی انتخابات کے پہلے مرحلے میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ان میں شریکانت شرما (متھرا)، اتل گرگ (غازی آباد)، سریش رانا (تھانہ  بھون)، کپل دیو اگروال (مظفر نگر)، سندیپ سنگھ (اترولی)، چودھری لکشمی نارائن (چھاتا )، انل شرما (شکارپور)، جی ایس دھرمیش (آگرہ کینٹ) اور دنیش کھٹیک (ہستینا پور) شامل ہیں۔ 

شاملی، مظفر نگر، باغپت، بلند شہر اور ہاپوڑ میں شام5 بجے تک60فیصد سے زیادہ لوگوں نے ووٹ دیا جبکہ دہلی سے منسلک غازی آباد اور نوئیڈا میں سب سے کم77.54فیصد ووٹنگ ہوگئی۔ بی جے پی لیڈر شری کانت شرما نے متھرا میں ووٹ ڈالا جبکہ چودھری لکشمی نارائن نے چھاتا اور کپل دیو اگروال نے مظفر نگر میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔راشٹریہ لوک دل(آر ایل ڈی) صدر جینت چودھری بجنور میں انتخابی مہم میں مشغول ہونے کی وجہ سے ووٹ ڈالنے متھرا نہیں پہنچے سکے لیکن ان کی بیوی نے ووٹ ڈالا۔ یوگی حکومت میں گنا وزیر سریش رانا نے تھانہ بھون میں ووٹ ڈالتے ہوئے سبھی58سیٹوں پر جیت کا دعوی کیا۔


Share: